Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 14 - Jul 19
For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15
Description
چین آشنائی | شاہ محمد مری | Cheen Ashnai | Shah Muhammad Marri: : : : : : !! (: ) (: ) (: ) (:) (: ) !!(: ) : (: ) !!(: ) (: ) ! ! (:) 55 (:) (: ) For bidden city (: ) We are the overthrowers of emperors. [128] (: ) 5000 (: ) (: ) (: ) (: ) (: ) (:) () Convergence (: ) Pages 352
نام کتاب : چین آشنائی
مصنف : شاہ محمد مری
مبصر : مصباح نوید
پہلی اشاعت: ۷۰۰۲ء
دوسری اشاعت: ۰۲۰۲ء
کچھ چٹکلے، کچھ شہ پارے،
کچھ دل سے ٹپکے شنگرفی انار دانے
’چین آشنائی، محض چین سے آشنائی نہیں ہے۔ اس سفر نامے کے کئی پرت ہیں۔ سیاسی، تاریخی، ثقافتی۔ اس سے بڑھ کر نسوانی حسن کو بے تحاشا سراہنے والی آنکھ ہے۔
’حسن اور ریجکشن!!دُھرفٹے منہ‘۔
(ص: ۰۲۱)
پریم کی شہنائی پر جھومتا دل بھی ہے اور اس دل کو اپنے وطن کی پسماندگی، نادیدگی، درماندگی رنجور بھی رکھتی ہے۔
شاہ محمد مری اس سفر نامے میں سوشلزم کا سہارا لے کر جی اُٹھنے والی قوم کی داستان بیان کرتا ہے۔ اس کی بنیادوں پر لگی اور تیزی سے پھیلتی ہوئی سرمایہ داری کی دیمک پر بھی نگاہ ہے۔
’سوشلزم کے سالن میں سرمایہ داری کی مرچیں کس قدر لگتی ہیں‘۔ (ص: ۷۵۲)
کیٹپلزم وہ آکاس بیل ہے جو ہرے بھرے درخت پر ایسا جالا بنتی ہے کہ اس پر درد مندی اور انسانیت کے شگوفے کھلنا بند ہو جاتے ہیں۔
اس سفر میں ہم رکاب چار سنگی ہیں۔ پانچویں ورچوئل سنگت کی چوڑیوں کی کھنک بھی ساتھ ہے۔ سب سے جاندار سنگت بھی یہی ہے جو اپنی غائب موجودی میں بھی موجودگی سے زیادہ حاضر رہی۔
’جیسے دو جام ٹکرائے ہوں، جیسے چوڑیاں کھنکی ہوں جیسے موتی کا دانہ فرش پر گر جائے۔(ص: ۵۱)
مزے کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے پاکستانی سفر نامہ نگار چاہے حقیقی سفر کریں کہ خیالی۔ ہر سنگ میل پر ان کی گود میں ایک دلربا پکے پھل کی طرح آگرتی ہے۔
لیکن شاہ محمد مری دل کی ہتھیلیوں میں چھپا کر اپنی دلربا اپنے ساتھ لے گیا۔
یہ چمپا روح و دل مشکبار بھی کرتی رہی اور اشکبار بھی۔شاہ پنل اپنے سکالر، دانشور ہم راہیوں سے نگاہ بچا کر اپنے ہاتھ کی پشت سے آنکھوں کی نمی خشک کرتا رہا اور مسکراتا رہا۔
اپنے وطن سے دوری، اپنے اپنوں سے دوری اور پھر اپنے ’مرکز ثقل‘ سے دوری کیا کیا کربناک صورتیں پیدا کرتی ہیں ہم ان کا بھی نشانہ ہے۔(ص:۴۱)
یہ روداد محض ’دیکھتا چلا گیا‘ نہیں ہے۔ مصنف سوچتا ہے، نئے ابھرتے امکانات دیکھتا ہے۔ تجزیہ کرتا ہے، تقابلی جائزہ لیتا ہے۔
’اس جہاز میں ضیاء الحق کا فلسفہ مکمل طور پر نافذ تھا کہ یہاں مرد ہی مدد کی مہمان نوازی کر رہے تھے۔ ایئر ہوسٹیس آگے ’حلال کی کمائی‘ والی کلاس کو جلوے حلوے بانٹ رہی تھیں‘۔
چین میں عوام کی اکثریت کسی مذہب کو سرے سے مانتی ہی نہیں، علامہ اقبال کے فلسفے سے بالکل اُلٹ وہاں دین و سیاست پچاس برس سے جدا جدا ہیں،مگر اس کے باوجود سارے نظریہ پاکستان والے نوائے وقتیئے اس چنگزی والے ملک کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔(ص: ۹۱)
انسان کائنات کا سب سے بڑا پٹواری ہے۔ وہ آسمان بانٹنا ہے،زمین بانٹتا ہے، زیر زمین بانٹتا ہے، سمند ر بانٹتا ہے، دل بانٹتا ہے، پتہ نہیں اُسے اجتماعیت سے کیا بیر ہے؟ یہ کیوں نہیں کہتا کہ ہمار ایئر سپیس، انسانوں کی زمین!!۔۔۔(ص: ۲۴)
’لغت کے دو بد بخت الفاظ: ’میرا، تیرا‘۔ (ص: ۲۴)
’ارے ملاؤں میں بھی مسلمان ہوتے ہیں!!‘۔(ص: ۳۸)
دل میں بستا بلوچستان بھی گاہے گاہے زخم کی طرح ٹیس اُٹھاتا رہا۔
”ڈنڈے، چھڑیاں، چاقو، کلہاڑے، تلواریں۔۔۔ہم نے کیا کرنی تھیں یہ چیزیں، کہ ہمارا وطن ان بدبختیوں کا میوزم تھا“۔ (ص: ۲۸)
راستے میں فربہ بھیڑوں کے ریوڑ دیکھ کر اپنے وطن کی لاغری اور چراہوں کے ننگے زخمی پاؤں یاد آتے ہیں۔ چرواہاعوت نے کوٹ پتلون پہن رکھا تھا اور کندھے پر پانی سے بھرے مشکیزہ کے بجائے ریڈیو رکھا تھا۔مصنف کی حیرت دیدنی ہے اور دلدوز بھی۔
’ارے اس عورت نے تو جوتے پہن رکھے ہیں۔ جی ہاں! جوتے! اس کے کپڑے پھٹے نہیں ہیں‘۔ (ص:۸۸)
شاہ محمد مری اپنی تحریر کو بلوچ کے دل کی کسک اور بلوچی زبان کی ضرب المثل دونوں سے ایک نیا رنگ آہنگ دیتا ہے۔ دو بھائی اور تیسرا حساب۔ گھر میں حساب کتاب نہ ہو تو وہ گھر برباد ہو جاتا ہے۔
”55افراد پر مشتمل سفارت خانے میں بلوچ قوم کا ایک فرد بھی نہیں ہے“۔ (ص:۲۸)
چین کے ماضی میں طویل سلسلے شہنشاہت اور فیوڈلزم کے ہیں۔ محلات کا ذکر آتا ہے تو شیطان کی آنت کا خیال بھی آتا ہے۔ بارہ ہزار مربع میٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے شہرِممنوعہ کے امپیریل پیلس کی رسائی اب ٹکٹوں سے ممکن ہے۔
’ارے واہ، دل خوش ہوا۔ ظل الٰہی کے محل کا ٹکٹ دیکھ کر‘۔ (ص: ۰۰۱)
شاہی محلات For bidden cityکی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کیا خوب لگا کھاتے عنوان دئیے گئے کہ یہ عنوان ہی ساری کہانی بیان کر دیتے ہیں۔
’شہر ظلمات کو ثبات نہیں‘
’کیا کروں روؤں ہنسوں رقص کروں یا ماتم‘۔
’ملکہ نہاتی کیسے تھی‘۔
’بادشاہ کا مولوی‘۔
’ارے ابھی کہاں چل دئیے، ان محلات کا نام پڑھے بغیر میں آپ کو جانے نہ دوں گا۔ آپ کو نہ تو ان میں رہنا ہے نہ انہیں دیکھنا ہے نہ ان کے اندر کے مکینوں کے جاہ و حشمت کو بھگتنا ہے نہ ان کی تعمیر پر لاگت کا حساب لگانا ہے اور نہ ہی ان کوڑوں کا شمارکرنا ہے جو بیگار کرنے والے رعایا کی پیٹھ پر پڑتے تھے۔ نہ ہی ان اموات کی فہرست بنانی ہے جو اس جاں گسل مشقت سے ہوتی رہی تھیں‘۔(ص: ۶۰۱)
تفصیلات پڑھتے ہوئے آپ کو قحط زدہ پسماندہ اور افیونی چینوں کا ذلت بھرا ماضی سمجھ میں آجائے گا۔
”نوہزار نو سو ننانوے محلات پر مشتمل اس عمارت میں جو چیز بطور سیمنٹ استعمال ہوئی وہ لیس دار چاول اور انڈے کی سفیدی سے بنائی گئی تھی“۔
پھر ذہن کے دریچے میں اپنے وطن کی بدبختی کی تصویر بال بکھیرے نمودار ہوتی ہے۔
“We are the overthrowers of emperors”. [128]
”یہ بھی اچھا ہے کہ چینی قوم کسی منظم مذہب کی پیروکار نہیں وگرنہ وہ بھی لاہوریوں کی طرح ہر جابر شاہجاں اور شاطر اکبر بادشاہ کے سارے محلات کو اسلامی فنِ تعمیر قرار دیتے۔(ص: ۷۰۱)
ارتقاہی تہذیب کو زندہ رکھتا ہے۔ چائنہ کے کلچر کا بیانیہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ کھانا یا خوراک انسانی نسل کی تہذیب ہے اور پکانا ایک آرٹ۔
”یہ لوگ 5000سے زائد ڈشیں پکاتے ہیں اورکھانے میں رنگ، خوشبو، ذائقہ، صورت، نیوٹریشن پر توجہ دیتے ہیں۔(ص: ۴۶۱)
چین کا ماضی فیوڈلزم اور بادشاہت کی ہولناکی ہوسناکی اور بے رحمی سے اس قدر لتھڑا ہوا ہے کہ گھن آتی ہے۔ ستم یہ ہے کہ ان کا گزرا ہوا کل ہمارا ’آج‘ ہے۔
’جو شخص غیر ملکی سکول میں غیر ملکی مضامین پڑھتا اسے غیر ملکی شیطانوں کے سامنے اپنی روح بیچنے والا تصور کیا جاتا تھا‘۔ (ص: ۲۷۱)
’پورے چین میں لازم تھا کہ لوگ اپنے سروں پر ہندو ملاؤں کی طرح چوٹی رکھیں۔ چوٹی کا نہ ہونا بغاوت تصور ہوتا تھا جیسے مغرب زدگی، کفر اور خدا سے بغاوت سمجھا جانا تھا۔
درحقیقت مذہب اور فیوڈلزم کو ہمیشہ عورت سے خطرہ رہا ہے۔ وہ عورت سے نہیں بلکہ اس کی زندگی کرنے کی بے پناہ شکتی سے ڈرتے ہیں۔
زمین پر بد صورتیاں بکھیرتا راکشس عورت کی سندرتا سے خوفزدہ رہتا ہے۔
فیوڈل چین عورتوں کو انڈر کنٹرول رکھنے کیلئے باقاعدہ نظریہ غلامی کی رواجی، روایتی آئین سازی کرتا نظر آتا ہے۔
’یہ بدبخت لوگ پیدائش کے وقت سے ہی لڑکی کو لوہے کے جوتے پہنا دیتے تھے۔ اس طرح پاؤں کی فطری نشوونما رُک جاتی تھی۔(ص: ۴۷۱)
یہ بدبختی اپنی دھرتی پر اس طرح اپنی انتہاء پر ہے کہ دماغ کی فطری نشوونما روکنے کے لئے نہ نظر آنے والے آ ہنی کنٹوپ کھوپٹریوں پر چڑھا دئیے جاتے ہیں۔
چینی عورت کو بارہ چودہ برس کی عمر میں طوائف یا داشتہ کے بطور فروخت کیا جاتا تھا۔ اگر شادی ہو جاتی تو شوہر کو ناخوش کرنے یا نرینہ اولاد پیدا نہ کرنے کی صورت اسے واپس والدین کے پاس بھیج دیا جاتا تھا۔ ساری شادیاں باپ منظم کرتے تھے۔ حتیٰ کہ دلہن دلہا نے شادی کے وقت تک ایک دوسرے کو دیکھا تک نہ ہوتا تھا۔ فیوڈل لوگ ایک سے زیادہ بیویاں کھتے اور داشتائیں ان گنت۔
فرمان سنتے جائیے، چاہے تو تائید میں سر دُھنیے کہ ہمارے سماج میں تو یہ فارمولے کچھ کمی بیشی کے ساتھ اب بھی لاگو ہیں۔
بیویوں کے لئے مشہور کہاوت تھی۔ ’اگر تم ایک کتے سے شادی کرو تو کتے کی پیروی کرو۔ اگر تم ایک مرغے سے شادی کرو تو مرغے کی پیروی کرو‘۔ (ص: ۶۷۱)
’عورتیں تین فرماں برادریاں کریں۔اگر وہ غیر شادی شدہ ہے تو باپ کی فرماں برداری کرے، شادی شدہ ہے تو خاوند کی اور بیوہ ہے تو بڑے بیٹے کی‘۔(ص: ۶۷۱)
بے حجاب عورتیں چائینہ میں بھی قدرتی آفات کا سبب بن رہی تھیں۔
کسی بھی قوم کو ذلت اور درماندگی کی چوکھٹ سے اُٹھانے میں اس کے لکھاری، دانشور اور اُستاد اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
’ادبی اور ثقافتی اُبھار کے نتیجے میں سینکڑوں نئے رسالے شائع ہوئے‘۔ (ص:۰۸۱)
چین کے فکری اُفق پر فروزاں تاروں میں نمایاں نام لوہسون، باجین، ماؤٹون،گوومورو ہیں۔ ان میں سے قطبی تارا لوہسون ہی کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ لوہسون وہ ادیب اور دانشور تھا جس نے اپنی فکری قوت سے مردہ سماج میں روح پھونکی۔
’پاگل کی ڈائری‘ (لوہسون) کو جدید چینی فکشن کے اولین شاہکار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ چین کا فیوڈل معاشرہ آدم خوروں کا معاشرہ ہے۔ جہاں ہر شخص دوسرے شخص کو کھا رہا ہے اور جو شخص اس آدم خوری کی نشاندہی کرے، پاگل کہلاتا ہے۔
’۷۱۹۱ء اور ۳۲۹۱ء کے درمیان پروفیسروں، طالب علموں، دانشوروں اور انقلابیوں نے تحریک چلائی کہ مغربی سائنس کلچر اور جمہوری اصولوں کو اپنایا جائے۔ ماوزرے تنگ، لانگ مارچ، ریڈ آرمی ان سب ناموں سے تو ’دیوار چین‘ کی طرح کان آشنا ہیں۔
ایک مقام پہ آکر ماوزے تنگ، کمیونسٹ پارٹی اور چین ایک ہی وجود بن جاتے ہیں۔ یہ لمحہئ نروان ہے، کایا کلپ ہے۔ گراں خواب چینی سنبھلنے لگے۔
’گراں خواب چینوں کو دیکھو، دوسروں کو جگاتے پھرتے ہیں، تقدیر نے جب جگا دیا تو کیا رنگ دکھائے، ان افیمیوں نے، ماؤ کا انقلاب، ڈینگ سیاؤپنگ کی ریفارم اوپن ینس، ایک ملک دو نظام، اب پھر سوشلزم، کیپٹل ازم کا Convergenceاور پھر نتیجے میں بے پناہ ترقی‘۔(ص: ۳۱۳)
”چین آشنائی“ ایسی کتاب ہے جو قاری کو مکمل اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔
بقول ڈاکٹر انوار احمد، ”چین آشنائی“ ایک طرف تو شاہ محمد مری کے افکار و نظریات کا مظہر ہے اور دوسری طرف مستقبل کی پاکستانی اُردُو کے اظہاری امکانات کا بے پناہ ذخیرہ ہے،
Pages 352
Shipping Notes
- Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
- Except Preorder products are shipped in 48 hours.
- Delivery to the USA:
- Standard Shipping : 3-10 business days
- If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
- We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
- Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
- To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
- Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
4.6 ★★★★★
Based on 855 reviews
Sort
Product Reviews
★★★★★ 5
No breakup, very sweet, instalove
Format: Kindle
Omegaverse and doesn't disappoint! Sweet guys, newly Omega FMC. The boyfriends are boyfriends. What's not to love? No angst, no breakup.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on February 23, 2025
★★★★★ 4
Pretty Darn Good
Format: Kindle
So I’ve been on a omega kick and this definitely hit the spot. Madison was frustrating at times with how she acted towards Lucas, Gray, and Rian. It was like she said towards the end, she didn’t believe she deserved nice things.
It would have been nice to hear from her best friends again. They kind of were there in the beginning and the gone except for mention of text messages received from them. I feel like her friends would have been great help in encouraging Madison to go with the pack and never give Brent another chance because he was toxic.
I loved Rian. His personality was awesome. His humor. His ability to make Madison comfortable whenever she was feeling overwhelmed. And the fact he fell for her and she fell for him first. They are cute together.
I do feel like Lucas was the odd man out though. Like Lucas didn’t develop as much of a relationship with Madison. I would have really liked to see more development in the relationship between them. It was also the same with him and Rian. There is really no relationship displayed. Most of the relationship being displayed is between Rian and Gray.
Nevertheless, I loved reading about the dynamic that came to fruition during the entirety of this story. Madison finally got her happiness. And Brent finally got punched in the face. Everyone got exactly what they deserve.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on September 6, 2022
★★★★★ 3
Pack's Promise was okay but not great
Format: Kindle
Pack's Promise was okay but not great. I won't recommend it to anyone that I know.
PRO:
* Very likable characters
* Lots of steamy scenes that are written very well
* The spelling and grammar are good
* The punctuation is good with the exception of using hyphens instead of commas. Lots of hyphens. Lots and lots of hyphens.
CON:
* Almost no interactions with any characters outside of Madison and the pack
* Nearly no plot. They meet, get together for a heat, agree to make it permanent, done
* Quite a few typos such as extraneous words, missing words and words out of order
THINGS TO KNOW:
* More steamy scenes than storytelling
* A lot of MM & MMM, some MFMM during heat
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 5, 2023
★★★★★ 5
such a good read
Format: Kindle
Madison, Lucas, Grey and Rian were made for each other!!! First time reading from this author and I’m not disappointed!!! Absolutely love the Love in this book and couldn’t ask for a better OV!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on October 25, 2023
★★★★★ 4
Fluffy and Nice Omegaverse
Format: Kindle
… this would have made 5 stars but for 2 reasons.
A.) there were quite a few typos; misspelled words, missing quotations, “the his” mistakes, and various signs that maybe a proofread would do good.
B.) the writing was quite textbook. Late blooming omega is struggling with her new self, finds a absurdly wealthy pack of alphas, every thing is almost insta-love but she resists, then decides to love herself and let everyone be happy.
Rian was my favourite (obviously the author’s favourite too because he got the most page time) but I wish we could see more of his CEO side? He went to work maybe ONCE the entire time. Gray was supposed to be the “growly one” but he turned out to be puppy dog. Lucas was a genius brainiac doctor - but also super alpha with an aggressive hindbrain with a breeding k*nk?? And then there was no actual “breeding”??
Spice 3/5 - normally omegaverse books are super high on messy smut but this was tamer.
Romance 3/5 - insta-love that was then resisted because of personal hangup’s
Plot 2/5 - weird paced head hopping, showing the same scene from different POV’s that made me feel like it was 2 steps backward, 1 step forward.
Humour 4/5 - there were a dozen lines that genuinely made me chuckle out loud
Would have been five stars but the lack of proofreading and the predictable plot made me unable to get up to ADORED IT level - four stars is still and official ENJOYED IT, y’all. This isn’t a bad rating. The “Club Heat” has intriguing possibilities so I’m going to give the second one a shot.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on March 31, 2023